248

”بلوچ رہنما عطااللہ مینگل“

کوئٹہ (ویب ڈیسک)نامور صحافی محمد کاظم بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطا اللہ مینگل کی تدفین کے لیے ضلع خضدار میں ان کے آبائی علاقے وڈھ میں جس مقام کا انتخاب کیا گیا تھا اس پر سیاسی رہنما، کارکن اور عام آدمی سمیت ہر شخص حیران تھا۔حیرانی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ نہ صرف وہ جگہ آبادی سے اچھی خاصی دور تھی بلکہ وہاں بننے والی یہ پہلی قبر تھی۔ تدفین کے موقع پر یہی سوال نہ صرف زیر بحث رہا بلکہ یہ سوال سیاسی رہنماﺅںاورکارکنوںکوپریشانبھیکرتارہا۔تاہم جب بعض سیاسی رہنما فاتحہ پڑھنے سے قبل قبر کے پاس آئے تو بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے یہ معمہ ان کے لیے حل کردیا۔وڈھ شہر میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سردار عطا اللہ مینگل کے جسد خاکی کو شہر کے کسی بڑے قبرستان میں نہیں لے جایا گیا بلکہ شہر سے مشرق کی جانب گاڑیوں کی بڑی تعداد روانہ ہوگئی۔ لوگوں نے بتایا کہ ان کی تدفین شہدا قبرستان میں ہو گی لیکن جب صحافی وہاں پہنچے تو دور دور تک کسی قبر کے آثار نہیں تھے، جس کے بعد سیاسی رہنماﺅںاورکارکنوںکےتجسسمیںبہتزیادہاضافہہوگیا۔دعا سے قبل بزرگ سیاسی رہنما ڈاکٹر عبدالحئ بلوچ، پشتونخوا میپ کے رہنما عبدالرحیم زیارتوال اور سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ سمیت متعدد دیگر رہنما جب سردار اختر مینگل کے پاس وجہ پوچھنے آئے تو انھوں نے بتایا کہ سردار عطا اللہ مینگل نے اسی علاقے میں تدفین کی وصیت کی تھی۔ان کے مطابق سردار عطا اللہ مینگل اپنی زندگی میں اس علاقے کا اکثر دورہ کرتے تھے۔ انھوں نے نہ صرف اپنے خاندان کے افراد کو بلکہ قبیلے کے عمائدین کو بھی یہ وصیت کی تھی کہ ان کی تدفین اس مقام پر کی جائے۔’ اس قبر کے قریب کوئی آبادی نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ فاصلے پر صرف ایک گھر ہے جو سردارعطا اللہ مینگل کے جلاوطنی اختیار کرنے والے بڑے صاحبزادے میر جاوید مینگل کا ہے۔سردار اخترمینگل نے بتایا کہ ہم لوگوں کا آبائی قبرستان وڈھ شہر کے عقب میں ہے لیکن والد نے وہاں کے بجائے لوہی میں تدفین کی وصیت کرائی جو کہ چند کلومیٹر کے فاصلے پر وڈھ شہر کے مشرق میں واقع ہے۔سرداراختر مینگل نے بتایا کہ اس علاقے کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ نصیرخان نوری جب یہاں آتے تھے تو وہ اس علاقے میں اپنا پڑاﺅڈالتےتھے۔انھوں نے بتایا کہ سردار عطا اللہ مینگل نصیرخان نوری سے زیادہ متاثر تھے اور وہ ان کے آئیڈیل تھے کیونکہ نصیرخان نے نہ صرف بلوچ قبائل کو اکٹھا کیا بلکہ ان کی پہلی کنفیڈریسی بھی قائم کی۔’ میرے والد اکثر ان کی کاوشوں کا ذکرکرتے تھے اور شاید اسی وجہ سے انھوں نے اپنی قبر کے لیے اس مقام کا انتخاب کیا۔’اس سوال پر وہاں کوئی پرانی قبریں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ قبرستان لوہی سے آگے ہے جو کہ دودکی کہلاتا ہے۔ اس علاقے میں گوہرام اور لالو سمیت نورا مینگل کے ان دیگر ساتھیوں کی قبریں ہیں جو کہ انگریزوں کے ساتھ معرکے میں جان سے گئے تھے۔سردار عطا اللہ مینگل سے قبل نواب خیربخش مری کی تدفین ان کے آبائی علاقے کوہلو کی بجائے کوئٹہ میں ہزار گنجی کے علاقے میں کی گئی تھی کیونکہ انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا ان کی تدفین اس علاقے میں کی جائے جہاں ان کے بہت سارے فکری ساتھی مدفون ہیں۔ نواب مری کے بڑے بیٹے نوابزادہ جنگیز مری نے نواب خیر بخش مری کی لاش کو کوہلو لے جانے کی کوشش کی تھی لیکن ریلوے ہاکی گراﺅنڈسےلوگوںنےانکی میت کوکوہلوجانےنہیںدیاتھا۔جبکہاندونوںرہنماﺅںسےقبلخیبرپختونخواسےتعلقرکھنےوالےخدائیخدمتگارتحریککےبانیباچاخانکیتدفینانکیوصیتکے مطابق افغانستان کے شہر جلال آباد میں کی گئی تھی۔سردار عطا اللہ مینگل کا شمار ان سیاسی رہنماﺅںمیںہوتاتھاجنھوںنےطویلعرصےتکجدوجہدکی۔ایک سوال پر سردار اخترمینگل نے کہا کہ ‘میں نے اور میرے بھائی نے انھیں اس بات پر قائل کرنے کوشش کی وہ اپنے حالات زندگی کو تحریر کروائیں تاکہ ان کو کتابی شکل دی جا سکے لیکن وہ اس بات کے لیے تیار نہیں ہوئے۔’والد کہتے تھے کہ بائیوگرافی کے لیے سچ لکھنا پڑے گا جبکہ جھوٹ مجھے بولنا نہیں آتا۔’وفات سے پہلے طویل عرصے تک سردار عطااللہ مینگل کی خاموشی پر اختر مینگل کا کیا کہنا تھا؟اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سردارعطا اللہ نے گذشتہ پانچ سے آٹھ سال کے دوران نہ صرف عملی سیاست کو ترک کیا بلکہ انھوں نے مکمل خاموشی اختیار کی۔اس سلسلے میں صحافیوں کے ایک سوال پر سردار اختر مینگل نے کہا کہ وہ بلوچستان باالخصوص پاکستان کی سیاست سے بہت زیادہ مایوس ہوچکے تھے۔ سردار عطا اللہ مینگل کی یہ رائے تھی کہ پاکستان میں آپ اسٹیبلشمنٹ کا دم چھلا بن کر سیاست کرسکتے ہیں یا پھر اپنے لیے قبر بنالیں۔’ان کا کہنا تھا کہ ایک صحافی نے کراچی میں جب ان سے انٹرویو کی درخواست کی تو انھوں نے کہا تھا کہ ‘بھیڑوں کے سامنے کیا بین بجاؤں۔ کسی کو سمجھ آئے تو میں بات کروں۔ صبح شام ان کے سامنے واقعات رونما ہوتے ہیں کسی کو سمجھ ہی نہیں آتی ہے۔’سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کی سیاست ہی ہمارے لیے وصیت اور نصیحت ہے۔ گلوگیر آواز میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ رشتہ صرف باپ اور بیٹے کا نہیں تھا بلکہ ایک استاد اور لیڈر کا بھی تھا۔ ان کا جو مقصد تھا اس پر ہم پورا اترے ہیں یا نہیں تاہم انھوں نے ہمیں جو منزل دکھائی ہے ہم کوشش کریں گے اس پگڈنڈی کو نہ چھوڑیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں