357

میرے شوہر آگئے ۔ کہانی

کہانی سنیں ایک لڑکی کی زبانی بچپن سے ہی ماموں ممانی مجھ سے بہت پیار کرتے تھے جب میں بڑی ہوئی تو انھوں نے مجھے اپنی بہو بنالیا عمران ان کا اکلوتا لاڈلا بیٹا تھا تعلیم مکمل ہوتے ہی وہ اچھے عہدے پر فائز ہو گیا ان کے ماموں جان کی کافی جان پہچان تھی ملازمت کی خاطر عمران کو در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑی میں خوش قسمت تھی کہ گھر میں سسر اور ساس کا پیار ملا عمران بھی مجھ سے بہت پیار کرتے تھے میرا بہت خیال رکھتے تھے شادی کے بعد خوش و خرم زندگی گزر رہی تھی جب امی کی یاد ستاتی تو منہ اٹھا کر میکےچلے آتی کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی ان دنوں میں گھر کی خوشیوں میں مگن تھی اللہ تعالی نے دو بیٹیوں سے نوازا دیا اب ممانی جان کے دل میں پوتے کی آرزو تھی بالآخر اللہ تعالی نے بڑی منتوں اور مرادوں سے بیٹے سے بھی نواز دیا جن دنو احمد پیدا ہوا مجھے ہوسپٹل میں داخل ہونا پڑا وہاں ایک نرس سونیا میرا بہت خیال رکھتی تھی میری اس سے دوستی ہو گئی احمد کی پیدائش پر ہم نے بہت خوشی منائی مٹھائی بانٹی عمران اس نرس کو پیسے دیے میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ سونیا نے میری بڑی خدمت کی ہے انہیں کچھ اور بھی دینا چاہیے میں چاہتی ہوں اسے اچھا سا جوڑا دو عمران نے جوڑا لا کر دیا میں نے اسے جوڑا دیتے ہوئے کہا یہ خوشی کا موقع ہے اس لیے دے رہی ہوں عمران سے کہا کہ اس تمہارے لئے منگوایا ہے وہ بولی نہیں لے سکتی جب تم گھر آ جاؤ گی پھر لے لوں گی ہاسپٹل سے چھٹی ہونے پر اپنے گھر کا پتہ بتا دیا کہ جب مرضی ہو آ جانا او جانے جانا میں نے ہسپتال سے گھر جانے کے ایک ماہ بعد سونیا ہمارے گھر آئی میں نے خاطر تواضع بھی کی جوڑا بھی دیا ۔ باتوں باتوں میں سونیا نے مجھ سے کہا مجھے بہن بنا لو میری کوئی بہن نہیں ہے مجھے اس رشتے کی حسرت ہے میری بھی کوئی بہن نہیں تھی میں نے جواب دیا آج سے تم میری بہن ہو۔ اس کے بعد وہ اکثر ہمارے گھر آنے لگی ۔ ایک دن سونیا کہنے لگی کہ میں ہوسٹل میں بہت تنہا محسوس کرتی ہوں گھر گاؤں میں ہے ۔ اس لیے وہ اکثر ہمارے ہاں آنے لگی۔ مجھے بھی اس کی عادت ہونے لگی جس روز وہ نہ آتی مجھے اسکی کمی محسوس ہوتی ۔کچھ دنوں سے سونیا نہیں آرہی تھی ایک دن میں نے عمران سے کہا ذرا پتہ تو کریں سونیا کیوں نہیں آ رہی انہوں نے ہوسپٹل جا کر معلوم کیا تو وہاں گئی کہنے لگی سلمہ مسئلہ یہ ہے کہ تمہارا گھر میرے ہوسٹل سے کافی دور ہے مجھے ٹیکسی چلانا پڑتا ہے کرایہ بھی کافی دینا پڑتا ہے تب ہی جلدی نہیں آسکتی۔ میں نے عمران سے کہا کہ وہ سونیا کو اپنے ساتھ کبھی کبھی لایا کرے۔ پھر وہ گھر پہ فون کرتی اور میں عمران کی منت سماجت کرتی تو وہ اپنی گاڑی میں اسے لے آتا۔ لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ لڑکی جس کو میں نے اپنی بہن بنایا ہے وہ میرا گھر بھی نہ چھوڑے گی۔ ایک دن سونیا نے بتایا کہ اس کے والدین گاوں سے آرہے ہیں ماں کے پیتے میں پتھری ہے ان کا چیک اپ کروانا ہے اور والد کا بھی چیک اپ ہونا ہے وہ کچھ پریشان لگ رہی تھی کیا پریشانی ہے میں نے اصرار کیا مجھے بتاؤ تو وہ کہنے لگی تم جانتی ہو میں ہوسٹل میں رہتی ہوں انہیں وہاں نہیں ٹھہرا سکتی ہوں ہاسٹل میں ٹھہریں گے یہی پریشانی ہے ۔ اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے ان کو ہمارے گھر لے آؤ یہ بھی انہی کا گھر ہے تو میری بہن جو ہے اگلے دن اس کا فون آیا بھائی عمران کو کہو کہ میرے والدین کو لاری اڈے سے لے آئے میں نے عمران سے کہا انہوں نے منہ بنا لیا ۔ میں دفتر سے کیسے لاری اڈے جاؤں گا مجھے بھی کام ہوتا ہے۔ خیر میرے کہنے پر جب عمران کام کے بعد واپس آئے تو سونیا کے والد ہمراہ تھے گاؤں سے والدہ نہیں آئی تھی عمران نے بزرگ کو روم میں بٹھا دیا تھوڑی دیر تک میزبانی کے پیش نظر خود ساتھ بیٹھے تھے چائے وغیرہ پلائی اور پھر واپس دفتر گئے۔ شام کو وہ اکیلے نہیں تھے سونیا بھی ان کے ساتھ تھی۔ ہاتھ میں کچھ شاپر کھانے پینے کے سامان سے بھرے ہوئے تھے۔ سونیا نے۔بتایا کہ انہوں نے اپنے والد صاحب کے لئے سامان لیا ہے۔ جو ہم سے ہوا ہم نے ان کے والد کی خدمت کی ۔ کچھ دن تک سونیا کے ابو نے ہمارے گھر قیام کیا سونیا بھی ساتھ رہیں ہم نے بھی خوشی خوشی ان کی مہمان نوازی کی۔ جاتے ہوئے بزرگ نے اپنے گاؤں آنے کی دعوت بھی دے دی ۔ کبھی جو سونیا کے والد کو شہر آنا ہوتا تو ہمارے گھر آ کر ٹھہرتے تھے۔ ان دنوں سونیا بھی ان کے ساتھ ایک دن ٹھہر جاتی میرا شوہر سونیا کے والد کے بہت قریب ہو گئے تھے کیونکہ وہ اپنا پیری مریدی کا سلسلہ بتاتے تھے ان کی پیری مریدی بھی چل رہی تھی۔ میں ہر چیز سے بے نیاز کر بچوں میں مگن تھی لاہور سے کبھی کبھی ماموں اور ممانی میں آ جاتے تھے ۔میں نےان لوگوں سے سونیا کا تذکرہ نہیں کیا کہ پوچھیں گے کون ہے کیوں آتے ہیں ایک دن ماموں آگئے اور بیٹھک میں ایک شخص کو بیٹھے دیکھا۔ انہوں نے پوچھا آپ کون ہے کس لیے آئے ہیں انہوں نے کہا میں آپ کی بہو کی منہ بولی بہن کا باپ ہوں اور آپ کے بیٹے عمران سے ملنے کے لیے آتا رہتا ہوں ماموں جہاں دیدہ شخص تھے وہ کہنے لگے وہ گھر پر نہیں ہے لہذا آپ اس وقت چلے جائیں جب گھر پر ہو گا تب آنا۔ عمران کی غیر موجودگی میں آپ کا یوں گھر میں بیٹھنا مناسب نہیں ہے ۔ ماموں نے مجھے بتایا کہ میں نے اس آدمی کو چلتا کر دیا ہے وہ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا میں نے کہا ماموں آپ نے یہ کیا غضب کر دیا ہے۔ بزرگ کی عمران سے عقیدت مندانہ مناسبت ہے عمران ناراض ہوں گے وہ گاؤں سے آیا تھا کیوں نہ بیٹھنے دیا ۔؟ ماموں نے سمجھایا کہ تم نہ سمجھ ہو زمانے کو جانتی نہیں ایسے لوگوں کس قسم کے ہوتے ہیں۔ ابھی ہم یہ بات کر ہی رہے تھے کہ سونیا بھی عمران کی گاڑی میں آ گئی۔ سونیا اس کے ساتھ تھی۔ آج بھی پھل فروٹ کا سامان عمران لائے تھے۔ سونیا کو دیکھ کر ماموں کے ماتھے پر شکنیں نظر آئیں۔ مجھے دوسرے کمرے میں بلاکر کہا یہ لڑکی سہی نہیں ہے ان سے تعلقات ختم کرو ورنہ پچھتاوگی۔ ماموں کا یہ رویہ مجھے برا لگا مگر میں احترام کی وجہ سے خاموش رہی اس کے جانے کے بعد ماموں نے عمران کو بھی بہت سنائی نہیں ادھر سے یوں آنے کی کیا ضرورت تھی ان لوگوں سے تعلقات ختم کر دو اور اپنے کام سے کام رکھو ۔ ماموں دو دن رہ کر چلے گئے لیکن میں نے سونیا سے تعلقات ختم نہ کیے۔ بلکہ معذرت کی کہ ماموں کو کچھ معلوم نہیں تھا اور وہ دوسرے شہر میں رہتے ہیں اگر تم لوگوں کو ان کی کوئی بات بری لگی تو درگزر کر دینا ۔ایک دن سونیا کے والدین آئے اور کہا کہ ہماری بیٹی ہوٹل کا کھانا کھا کر بیمار رہنے لگی ہے اگر آپ اپنے گھر کا ایک چھوٹا سا کمرہ سونیا کو دے دیں تو وہ اپنا خرچہ خود اٹھا لے گی ۔ میں نے کہا آپ فکر نہ کریں جودال روٹی ہم کھاتے ہیں یہ بھی ہمارے ساتھ کھا لیں گی۔ یہ میری سہیلی ہے اسکے رہنے سے خوشی ہوگی بہن بنایا ہے اتنا تو کر سکتی ہو بہن بنانے کا کیا فائدہ اگلے دن سونے سامان لے کر آ گئی۔ اوپر کمرے کے علاوہ باتھروم اور سٹور بھی تھے جس کو کچن کے طور پر استعمال بھی کیا جا سکتا تھا لیکن میں نے اسے کھانا بنانے سے روک دیا جب وہ آ جاتی جو ہوتا ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھا لی تھی جو کمرہ ہم نے ا سے دیا تھا اس کی پچھلی دیوار ہمسایوں کی دیوار سے ملی ہوئی تھی۔ کمرے کے سامنے کھلا حصہ تھا ۔سونیا کو کمرہ بہت پسند آیا۔ سونیا ایک دن میں سارا سامان جمع کرکے اگلے روز سے ڈیوٹی پر جانے لگی۔ عمران صبح آٹھ بجے تک چلے جاتے ۔ یہ بھی ان کے گھر نکلنے سے پندرہ منٹ پہلے نکل جاتی تھی کچھ دن بعد عمران دیر سے گھر آنے لگے تو میں پریشان ہونے لگی ۔عمران نے بتایا کہ دفتر میں کام زیادہ ہے پریشان نہ ہوا کریں جلدی حالات معمول پر آجائیں گے ۔ ہمارے گھر آنے کے بعد سونیا بچوں کے ساتھ کھیلتی ان پر بہت توجہ دیتی تھی ۔چھٹی کے دن بھی تمام دن ان کے پاس ہوتے جس کی وجہ سے بچے ان سے بہت زیادہ مانوس ہوگئے تھے۔ جو ڈیوٹی سے آتی آوازوں نہیں سونے کی جانب دوڑ پڑتے میں سوچتی کہ شاید یہ میرے بچوں کو اتنا زیادہ پیار اسلی دیتی ہے کہ ہم خوش رہیں اور اس کو اپنے گھر میں رہنے دیں۔ان دنوں مجھے نیند بھی جلدی آ جاتی تھی۔ ان دنوں عجیب کیفیت تھی رات کا کھانا کھاتے ہی بستر پر لیٹ جاتی اور گہری نیند سو جاتی جو بچہ جاگ رہا ہوتا تو سونیا دودھ پلاتی۔ کبھی کبھی عمران کو گھر آنے میں دیر ہوجاتی تو سونیا انہیں کھانا بھی دیتی۔ اب وہ ہماری گھریلو مسائل بھی شیئر کرنے لگی تھیں۔ لیکن ان دنوں ایک عجیب بات تھی جب میں پہلے سوکر اٹھتی تو تازہ دم ہوتی تھی لیکن اب بھاری پن محسوس ہوتا۔ عمران کو بتایا تو کہنے لگے کہ دن بھر کی کام سے تھک جاتی ہوں گی کبھی ایسا ہوتا ہے لیکن فکر کی کوئی بات نہیں سکون کی گولی لے کر سو جایا کرو دن رات ایسے ہی گزر رہے تھے ۔ ایک دن اچانک میرے پڑوسن مجھ سے ملنے آئیں باتوں باتوں میں بولیں جب سے تم اور تمھارا شور چھت پر سونے لگی ہو میری تو نیند خراب ہونے لگی ہے ۔ میں نے پوچھا وہ کیسے وہ بولی ہمارے پاس تمہاری دیوار کے ساتھ ہی ہے تم لوگ رات بھر جاگتے اور باتیں کرتے ہو ۔اور میرے شوہر کہتے ہیں ان دونوں میاں بیوی میں کتنا پیار ہے ۔ میں نے پڑوسن سے کہا کہ میں اور میرا شوہر تو چھت پر نہیں سوتے ۔ چھت پر میری منہ بولی بہن رہتی ہے ۔ یہ سن کر پڑوسن بولی اگر یہ بات ہے تو تم اپنے شوہر اور سہیلی کی نگرانی کرو۔ یہ کہہ کر چلی گئی لیکن میرے دل کا سکون لوٹ کر لے گئی۔ اس رات میں نے کھانا نہیں کھا یا ۔ میں کھانا اپنے کمرے میں لے گئی اور اسے باہر پھینک دیا ۔ کہ اس سے کسی کتے یا بلی کا پیٹ بھر جائے گا ۔ میں نے کھانا اس خیال سے نہ کھایا کہ کھانے کے بعد نیند کا غلبہ ہو جائے گا ۔ میں اپنے وقت پر لیٹ کر سوگئی اور رات 12 بجے کے دوران جب میرے شوہر کو بھی یقین ہو گیا کہ میں سو رہی ہوں تو وہ دبے قدموں سے اٹھ کر چلے گئے تھوڑی دیر بعد میں بھی ان کے پیچھے گئی۔ اوپر انہوں نے دروازہ بند کیا ہوا تھا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو دروازہ کھل گیا۔ اندر چھوٹا بلب جل رہا تھا ہلکے اندھیرے میں مجھے سب کچھ نظر آگیا ۔یا اس سے پہلے کہ میں سونیا کو مارنا شروع کر دیتی عمران نے مجھے پکڑا اور کہنے لگے بس کر دو ۔ کہنے لگے اچھا ہوا جو تم کو سب پتہ چل گیا اب معاملہ بگڑنا مزید آسان ہو گیا ہے۔ چلو وہاں بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔عمران مجھے گھسیٹتے ہوئے نیچے لائے اور میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔ شور مت کرنا ورنہ بہت برا ہوگا ۔ اس نے کہا خود کو سنبھالو ۔سونیا میری ہونے والی دوسری بیوی ہے ہم شادی کر رہے ہیں اگر تمہیں اس گھر میں رہنا ہے تو مجھے سونیا کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت دے دو۔ میں نے کہا جس کو بہن بنا کر دو کہ دیا اس سے شادی کی اجازت مانگ رہے ہو ہرگز نہیں احسان فراموش کم ذات میرے گھر میں رہیں اور میری ہی سکون میں خلل ڈال دیا میں اس کے ساتھ شادی کی اجازت نہیں دوں گی اور اسے اپنے گھر میں رہنے کی اجازت نہیں دونگی۔ بلکہ اس کو جان سے ماروں گی ۔ پہلے بہن بن کر گھر میں گھس گئی اور دھوکہ دے رہی تھی بے وقوف بنا رہی تھی میری باتیں سن کر سونیا کہنے لگی بے وقوف تم پہلے دن سے ہو ہمارا سلسلہ ہوسپیٹل سے چل رہا تھا تم ہوش کے ناخن لو۔ سونیا نے کہا تم یہاں کیا کر رہے ہو جاؤ میرے گھر سے یہ بچے میرے ہیں تم جاؤ گی۔ عمران نے مجھے بتلایا خیر چاہتے ہو تو چپ ہو جاؤ اور منہ بند کرو ۔سونیا نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن میں نے اسے بولنے کا موقع تک نہ دیا بلکہ گالیوں سے نوازتی رہیں تو عمران نے کہا اب چپ کرو تم نے بہت بول لیا اب اس کی بھی سنو کیا کہنا چاہ رہی ہے وہ میرے بچے ہیں ان کو مخاطب کرکے کہنے لگی۔ سونیا نے عمران سے کہا بس بہت ہوگیا میں تمہارے ساتھ تب ہی رہوں گی جب تم اسے طلاق دو گے۔ یہ سن کر میں آپے سے باہر ہوگئی۔ میں سونیا کو مارنے لگی تو عمران نے مجھے مضبوطی سے پکڑ لیا ۔ میں نے کہا میں صبح میکے چلی جاؤں گی جب میں اپنے میکے جانے کے لیے تیار ہونے لگیں تو یہ دونوں میرے پاس آگئے عمران نے کہا تم نہ جاؤ ورنہ پچھتاوگی مجھے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن میں نہ روکیں تو کہا اچھا ٹھیک ہے بچے تمہارے ساتھ نہیں جائیں گے میں تو یہی سوچ رہی تھی کہ امی ابو کو لے کر ہی آ جاؤ گی امی ابو ماموں کے گھر آئے تھا۔
انہیں ساری صورت حال بتائی ۔ ماموں نے کہا میں نے نہیں کہا تھا کہ یہ لوگ ٹھیک نہیں ہے ان کو گھر میں داخل مت ہونے دو تم نے میری بات کو اہمیت نہ دی اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ امی ابو میرے ساتھ کراچی آئے ۔ ہم عمران کے گھر آئے تو دروازہ بند تھا۔ ہم گھر میں بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگے انتظار بیکار تھا اور نہیں آئے نہ جانے بچوں کو کہاں چھپا دیا تھا ہم واپس لاہور آئے تو عمران لاہور آئے ہوئے تھے بچے ساتھ نہیں تھے ماموں نے کافی سمجھایا اس وقت سر جھکا کر سنتے رہے ۔ صبح جب سب سو رہے تھے تو چلے گے ہو کر حالات کا جائزہ لیتا ہوں ابھی اس کے سر پر عورت کا بھوت سوار ہے میں اسے کہنے لگے جب تک راہ راست پر نہیں آتا یہ ہمارے ساتھ رہے گی مجھے اپنے ساتھ گھر لے آئے میں والدین کے ساتھ پھر تو واپس آ گئی مگر ہم سے برا حال تھا بچے یاد آرہے تھے کے ایک مفصل تمام ہوا عمران کی جانب سے طلاق کے کاغذات آگے اس اچانک صدمے سے بے ہوش ہو کر گر گئی اب کیا باقی رہ گیا تھا ساری امیدیں خاک میں مل گئیں اور انہوں نے شادی کرلی پانچ سال میں تو یہی جواب ہوتا تھا میرے پاس رہیں گے ان کا کوئی بات نہیں وہ چھوڑ گئی تھی کاروالی صاحب نے زبردستی ملانے کا اپنے دوست کے بیٹے سے کرکے رخصت کر دیا میرا دوسرا خاوند کا حال جانتے تھے کہ میرا بہت خیال رکھتے تھے مجھے خوش رکھنے کی کوشش کرتے تھے لیکن جیسے خوشی دل سے روٹھ گئی تھی جو بچوں کی یاد آتی تمہیں بے موت مرنے لگتی تو اسے خاوند ہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں تھی مگر یہ بھی یہی چاہتے تھے کہ میں بچوں سے نہ ملو نہ میرے پاس آئے دنیا کے دو بچے ہوگئے ہیں وہ میرا آشیاں نہیں ہوتا ہے اسے بھی اپنے بچوں کی یادوں کو کیسے چھڑاتی ۔جیسے کوئی گناہ گار اپنا گناہ چھپاتا ہے خدا ایسا ہو کسی پر نہ لائے جب تک جی ہوگی بچوں کی یادوں میں صرف تیری رہوں گی اللہ تعالی سونیا جیسے ہر عورت سے بچائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں