534

سالی یا بیوی ۔ معاشرے کا بھیانک چہرہ

مناہل کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اور اپنے ماں سے رو کر کہہ رہی تھی کہ اس کے سر میں درد میں ہے۔ ماں نے مناہل کو دیکھ کر کہا کہ مناہل تم تو اتنی نازک ہو کہ تھوڑا سادرد بھی تم سے برداشت نہیں ہوتا۔ معمولی سردرد ہو تو بھی رونے لگ جاتی ہو تھوڑا ہمت سے بھی کام لیا کرو برداشت کیا کرو۔ امی میں کیا کروں مجھ سے درد برداشت نہیں ہورہا مناہل نے روتے ہو ئے کہا تو ماں نے اسے درد کی گولی دی جس سے اسے کچھ دیر کے لیے آرام ملا۔ 
مناہل ایک معصوم سی اور کمزور دل لڑکی تھی جو ناولز ڈرامے۔وغیرہ شوق سے دیکھتی۔ وہ ناول یا ڈرامے میں اتنی گم ہوجاتی کہ اسے حقیقت میں اس وقت رونا آتا جب ڈرامے یا ناول میں ہیرو یا ہیروئن اداس ہوتے اور اس وقت ہنستی جب ناول یا ڈرامے کے کریکٹر خوش ہوتے اور ہنستے۔ ایک ڈرامے میں جب ہیرو مر گیا تو باقاعدہ وہ بھی بہت زیادہ روئی۔وہ بہت معصوم سی تھی ۔ وہ بالکل گلاب کی طرح تھی۔
اس نے کالج میں داخلہ لے لیا تھا لیکن جلد ہی اس نے پڑھائی کا شوق نہ ہونے کی وجہ کالج چھوڑدیا تھا۔ مناہل کے پاپا بیرون ملک میں تھے وہ چار بہنیں اور دو بھائی تھے ۔ اسے گھر کے کام کرنے سے چڑ تھی گھر کا کام کرتے ہوئے اسے موت پڑتی تھی۔ لیکن پھر بھظ اگر کبھی کام کرنا پڑتا یا تھوڑا سا جاڑو لگالیتی تو چند دن بیڈ سے ہی نہیں نکلتی۔ 
ایک دن مناہل شاپنگ کی غرض سے بازار گئی تو وہاں اس نے ایک خوبصورت جوان کو دیکھا جو اسے بار بار دیکھ رہا تھا۔مناہل اسکی نظروں کا سامنا نہیں کر پارہی تھی اور بہت زیادہ  شرما رہی تھی۔ وہ لڑکا دیکھنے میں خوبصورت اور امیر لگتا تھا وہ  ٹک ٹکی باندھے مناہل کی طرف دیکھ رہا تھا۔ 
کچھ دنوں بعد مناہل کو ایک بار بازار جانا پڑا ۔ اس بار بھی مناہل کے سامنے وہی لڑکا آیا ۔ اس وقت مناہل کو بہت غصہ آیا اس سے پہلے کہ مناہل کچھ کرتی اس لڑکے نے بڑی چالاکی سے ایک کاغذ کا ٹکڑا مناہل کے ہاتھ میں تھمادیا۔ مناہل کو بہت غصہ آیا اور چاہتی تھی کہ اس لڑکے کا منہ نوچ لے لیکن اس وقت اس نے اپنے غصے پر قابو پایا اور گھر کی راہ لی تاہم مناہل نے وہ کاغذ کا ٹکڑا پھینکا نہیں بلکہ اسے گھر لے آئی۔ جب وہ گھر پہنچی اور گھر میں اس کاغذ کے ٹکڑے کو کھول کر پڑھا تو اس پر لکھا تھا کہ آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔ آپ بہت پیاری ہیں۔ آپ کو دیکھنے کے  بعد میرا چین اور سکون غارت ہوچکا ہے۔ میراقرار کھو چکا ہے۔ میری زندگی آپ کے بغیر نامکمل ہے اور میری زندگی کو مکمل کرنے کے لیے میں آپ کا منتظر ہوں یہ میرا نمبر ہے ۔ مجھے آپ سے شدید محبت ہے میں آپ کے کال کا انتظار کروں گا اور کال ضرور کرنا۔ 
مناہل یہ سب پڑھ کر کافی حیران ہوئی تاہم اس وقت مناہل نے اسے کال نہیں کی اور اپنی زندگی میں مگن ہوگئی۔ کچھ دن گزرے تو ایک دن مناہل کو خیال آیا کہ کیوں نہ اس لڑکے سے بات کی جائے ۔ دیکھتے ہیں وہ کیا کہتاہے۔
اس نے موبائل اٹھایا اور اس نمبر وٹس ایپ کرنے لگی۔ اس لڑکے نے وٹس ایپ پر اپنی تصویر لگائی ہوئی تھی۔لیکن مناہل ہمت نہیں جھٹا پارہی تھی میسج کرنے کی ۔ کئی بار ہیلو لکھا اور واپس مٹایا ۔ بالآخر ہمت کرکے اس نے ہیلو لکھا اور سینڈ کر دیا۔فوراََ جواب آیا کون؟ مناہل نے دو دن تک کوئی جواب نہیں دیا۔پھر ہیلو لکھا تو کال آئی مناہل نے کہا کہ صرف میسج پر بات کریں۔ 
وہ لڑکا سمجھ گیا کہ یہ وہی لڑکی ہے جسے میں نے بازار میں نمبر دیا تھا۔دوسری طرف نے لڑکے نے میسج کیا لکھا تھا مجھے یقین تھا کہ آپ رابطہ ضرور کرو گی۔ مناہل یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئی کہ اس نے کیسے پہچان لیا۔ اس لڑکے نے اپنا تعارف کرایا اور ایک عدد تصویر بھی سینڈ کی۔ میرا نام ارمان ہے اور میں یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔ 
آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ مناہل میسج کیا۔ 
ارمان آپ کو اپنا بنانا چاہتا ہے آپ کے سنگ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ مناہل نے کہا ہر لڑکے کا پہلا ڈئیلاگ یہی ہوتا ہے۔ ارمان مسکراہٹ والی ایموجی سینڈ کی اور ساتھ لکھا تھا میں سب سے الگ اور جدا ہوں ۔ مجھے سب میں شمار نہ کرو۔ 
ارمان نے کہا مناہل میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں  میں آپ کے ساتھ کبھی  غلط بات نہیں کروں گا۔ آپ جیسا بولو گی میں مانوں گا اور  ویسا  کروں گی۔ مناہل نے کہا ٹھیک ہے پھر مجھے دوبارہ میسیج کرکے تنگ مت کرنا۔  ارمان نے کہا مناہل اس کے سوا جو کہوکروں گا میں تم سے دور نہیں رہ سکتا۔ مناہل کو یقین نہیں ہورہا تھا ارمان اتنا پیار کیسے کرسکتا ہے۔ ارمان نے کہا مناہل بات سنیں ایک منٹ ویڈیو کال کریں آپ اپنا چہرہ نہ دکھائیں بس مجھے دیکھیں مناہل نے پہلے انکار کیا لیکن ارمان کی ضد پر ویڈیو کال کی ارمان نے ایک بلیڈ لیا اپنے بازو پر مناہل کا نام لکھا ۔ مناہل دیکھو اتنی محبت کرتا ہوں ۔
دونوں کے درمیات اندھے محبت کا سفر شروع ہوگیا۔  ارمان اور مناہل کی محبت کا یہ سفر فی الحال صرف باتوں تک محدود تھا۔ کبھی مناہل ارمان کے میسج کا لیٹ ریپلائی کرتی تو ارمان کا ل پر کال کرتا ۔ دن رات محبت بھر ی باتیں وعدے قسمیں خواب سب کچھ کیا جارہاتھا۔ 
ایک دن ارمان نے کہا مناہل اپنی تصویر بھیجو مناہل نے کہا میں  نے بنائی ہی نہیں کوئی تصویر۔ ارمان نے اسرار کیا  کہ تصویر بناو مجھے تم کو دیکھنا ہے ۔ مناہل نے تصویر بنائی اور سینڈ کی  ارمان تصویر دیکھ دیکھ کر تعریفیں کرنے لگا ۔ مناہل بہت خو ش تھی۔ ارمان نے کہا مناہل ایک تصویر سامنے سے بال ہٹا کر بناؤ ۔مناہل نے میں ایسی تصویر نہیں بناؤں گی۔ ارمان مسکراتے ہوئے کہنے لگا ارے مناہل تم میری ہونے والی بیوی ہو کیوں ڈرتی ہو۔ مناہل نے کہا شادی کے بعد کرنا نہیں روکو ں گی۔ لیکن اب نہیں۔
ایک روز خوبصورت بارش ہورہی تھی ۔ ارمان نے مناہل سے ضد کی میں آرہاہوں  دروازہ کھولو ۔مناہل نے بہت منع کیا لیکن ارمان نے ایک نہیں مانی اور دروازے پر آگیا۔بارش تیز تھی ۔ مناہل نے دروازہ کھولا اندھیرے میں سب سو رہے تھے بجلی چمک رہی تھی۔ ارمان نے مناہل کا ہاتھ پکڑا اورکہا مناہل میری جان دیکھو نا آج موسم کتنا پیارا دل کررہا تم کوسینے سے لگا لوں۔ مناہل کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے مناہل کو سینے سے لگایا۔وہ مناہل کے جسم کو ح وس کا نشانہ بناتا رہ مناہل ڈر گئی اور دھکا دیا کہا چلے جاؤ ۔ ارمان  خوش تھا کہ منزل کی پہلی سیڑھی پار کرچکا تھا۔ وہ ساری رات نہ سو سکی۔ صبح ارمان نے کا ل کی مناہل کیا بات ہے جان اداس سی ہو مناہل نے کہا کچھ نہیں ارمان مسکراتے ہوئے کہنےلگا، مناہل بس اب میری پڑھائی پوری ہوتے ہی ہم شادی کرلیں گے۔ مناہل نے کہا مجھے تم نے چھوا ہے ۔اب ڈر لگتا ہے تم بچھڑنے سے بہت خواب ہیں تمہارے ساتھ میرے اپنی ماں سے بات کروں گی۔
ایک رات ارمان نے فرمائش کی کہ مناہل اپنی ایک ہاٹ سی تصویر تو بھیجو۔مناہل نے منع کیا لیک  ارمان نے بہت  مجبور کیا پیار کے واسطے دیے قسمیں دیے مناہل نہ چاہتے ہوئے اس نے اپنی بر ہ نہ تصویرں کلک کرکے ارمان کو بھیج دیں۔ ارمان نے واٹس ایپ میں گروپ میں تصویر اپ لوڈ کی۔ مناہل کی بر ہ کی  فوٹو سب دوستوں نے دیکھی اور کہا ارے واہ ارمان کمال کردیا۔ ارمان نے مناہل سے ملنے کی ضد کی۔ لیکن مناہل نہیں مان رہی تھی کہ ایسا ممکن نہیں۔  لیکن ارمان ہمیشہ کی طرح بضد رہا۔ اس نے  مناہل کونیند کی گولیاں دی اور کہا گھر والوں کے کھانے میں ملا دینا ۔مناہل نے ایسا ہی کیا اور جب سب گھر والے گولیوں کے اثر سے گہری نیند میں چلے گئے تو ارمان گھر پر آیا اور پھررات بھر  مناہل کے جسم  کے ساتھ خوب کھیلا ، مناہل کو داغدار کیا اور چلا گیا۔
ارمان کو کال کرتی تو ارمان اگنور کرنے لگا مناہل پوچھتی ارمان میری جان آپ بات اب بہت کم کرتے ہیں۔ ارمان بات ٹالتے ہوئے کہا مناہل میں امتحان کی تیاری کررہا ہوں۔ مناہل گھر کے کاموں میں مصروف ہوتا ہوں۔ بات پھر سے ٹال دی۔ مناہل کو بہت تیز بخار تھا مناہل ارمان کو یاد کرکے رونے لگی۔
ارمان کو کال کرتی رہی اگنور کرتارہا۔ مناہل کا دل پھٹ رہاتھا۔ پھرایک مناہل نے کہا ارمان اپنی امی کو بھیجو شادی کی بات کرنے لیے ارمان نے کہا مناہل سچ بتادوں تو میرے نہ تو امی مان رہی اب نہ ابو۔ میں ان کے خلاف نہیں جاسکتا مناہل مجھے معاف کرد مناہل نے چیختے ہوئے کہا ارمان ایسی باتیں کیوں کررہے ہو۔ ارمان بس محبت پوری ہوگئی تمہاری کھیل لیا میرے جسم سے کھیل لیا میری روح سے کھیل لیا میرے جذبات سے ارمان کردیا۔ مجھے پاکدامن سے ایک ہیرا منڈی کی وحشیہ کی طرح کیا فرق رہ گیا۔ مجھ میں اور طوائف میں وہ پیسوں کےلیے بستر پر آجاتی اور مجھے تم نے محبت کے نام پر استعمال کرلیا ارمان نے کہا مناہل تم تھی ہی بدکردار لڑکی ۔
مجھ پر الزام لگا رہی ہو۔ خود کو دیکھو پہلے شریف اور عزت دار لڑکیاں محبت کیا کرتیں ہیں۔ تم تو اپنے ماں کو دھوکہ دے کر مجھ سے ملتی رہی ۔ تو مجھ سے کیسے وفا کرو گی۔ مناہل نے چیختےارمان بس کرو اللہ کے سامنے بھی پیش ہوگے ۔ کہاں ہیں تمہارے وعدے ۔ کتنی آسانی سے مجھے بدکردار کہہ دیا ناں۔ ارمان نے فون کاٹ دیا۔ نمبر بدل لیا۔ مناہل جب باپ کی آنکھوں میں دیکھتی ہے تو وہ تڑپ اٹھتی ہے۔ مناہل نے اللہ کے سامنے نماز میں سجدہ کرتی ہے۔ تو چیخ چیخ کر روتی ہے۔
میں ہاتھ جوڑ کر مسلمان لڑکیوں کو کہتا مت کرو محبت کہ یہاں ہ و س پرست کتوں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ زندگی بھر کے لیے اپنادامن داغدار نہ کرلینا انتا جان لو محبت کاانجام صرف جسم ہے۔ کوئی آئے سامنے آج کے زمانے میں محبت کرنے والا جو جسم کی بات نہ کرتاہو۔ اے میری شہزاد یوں تم محبت کرکے وح ش ی ہ بن جاؤں گی۔ اورمرد جسم ن و چ کر بھی پاکدامن رہے گا میر ی باتوں کو دل میں لکھ رکھو کہ میں کسی شہزادی کو مناہل بنتے اب دیکھنا نہیں چاہتا ۔ ہوسکتا ہے آج کی اس کہانی میں کچھ الفاظ آپ کوبرے لگے ہوں ۔ اس لیے معافی چاہتا ہوں ۔ جز ا کل اللہ ، دوستو!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں