کوہ نور: ’منحوس‘ ہیرے کی دلچسپ کہانی جسے انڈیا واپس چاہتا ہے

ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد انڈیا میں ایک بار پھر تاجِ برطانیہ میں جڑے کوہ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔

یہ مطالبہ فی الحال سوشل میڈیا تک محدود ہے اور انڈیا کی ہندو قوم پرست حکومت کی طرف سے اس مطالبے کی توثیق کے امکانات بہت کم ہیں کیوں کہ وہ اس سے اپنی دست برداری کا پہلے ہی اعلان کر چکی ہے۔

کوہ نور ہیرے کی تاریخ

اکثر انڈین مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ کوہ نور نامی یہ نادر ہیرا قطب شاہی دور میں گولکنڈہ کی کولور کان سے دریافت ہوا تھا۔ کولور آج جنوبی انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کا حصہ ہے۔

دکن کی تاریخ کے مورخ علامہ اعجاز فرخ نے امریکہ کے شہر شکاگو سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ کولور کان سے دریافت ہونے والا کوہ نور ہیرا سب سے پہلے گولکنڈہ کے میر محمد سعید المعروف میر جملہ (دوم) کے ہاتھ آیا، جو عبداللہ قطب شاہ کی طرف سے سلطنت کا وزیر اعظم بنائے جانے سے قبل ہیروں اور جواہرات کے تاجر تھے۔

’وہ دنیا کے اس سب سے قیمتی ہیرے کو چمڑے کے ایک بستے میں رکھتے تھے اور خود سے الگ نہیں کرتے تھے۔ اس کا وزن تقریباً 756 قیراط تھا۔ ایک دن میر جملہ کا بیٹا نشے کی حالت میں بادشاہ کے تخت پر جا بیٹھا جس کی پاداش میں انہیں (میر جملہ) کو اپنے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

’میر جملہ نے اپنی مدد کے لیے مغل حکمراں شاہجہاں سے ملنا مناسب سمجھا، جب وہ شاہجہاں کے دربار میں پہنچے تو انہیں کوہ نور ہیرا بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس طرح یہ ہیرا مغلوں کے پاس پہنچا۔

’شاہجہاں نے جب میر جملہ کی آمد کا مقصد دریافت کیا تو انہوں  نے اپنی روداد بیان کی جس پر شاہجہاں نے انہیں یقین دلایا کہ آپ کو اپنا عہدہ واپس دلایا جائے گا۔ بعد میں اورنگ زیب نے میر جملہ کو بنگال کا صوبے دار مقرر کیا۔‘

علامہ اعجاز فرخ کہتے ہیں کہ کوہ نور ہیرے کی مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا سے نادر شاہ کے ہاتھ لگنے کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

’یہ کہانی یوں ہے کہ جب نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا تو 1739 میں ان کے مخبروں نے انہیں خبر دی کہ محمد شاہ رنگیلا کی پگڑی میں ایک نایاب ہیرا پوشیدہ ہے۔ تب اس ہیرے کا نام کوہ نور نہیں تھا۔

’نادر شاہ نے پگڑی بدلنے کی رسم کے بہانے جب محمد شاہ رنگیلا سے پگڑی حاصل کی تو اس میں چمکتے دمکتے ہیرے کو دیکھ کر اس کا نام کوہ نور یعنی روشنی کا پہاڑ رکھا۔ اس دن سے یہ ہیرا کوہ نور کہلاتا ہے۔ نادر شاہ ہندوستان سے بقیہ مالِ غنیمت کے علاوہ کوہ نور ہیرا بھی اپنے ساتھ لے گئے۔‘

چوں کہ ملکہ الزبتھ دوم کے بڑے بیٹے شاہ چارلس سوم اب برطانیہ کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں اور اپنی بادشاہت کا حلف  اٹھا چکے ہیں لہٰذا 105.6 قیراط کے کوہ نور ہیرے سے مزین اس تاج پر اب ان کی ملکہ کامیلا کا حق بنتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے کئی انڈین مورخین اور ماہرین سے پوچھا کہ کیا کوہ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ مناسب اور قابل عمل ہے ،تو ان میں سے اکثر کا کہنا تھا کہ بے شک کوہ نور انڈیا نہیں بلکہ متحدہ ہندوستان کی ملکیت تھا لیکن اس کی واپسی ناممکن ہے۔

 کوہ نور ہیرے کی تاریخ

اکثر انڈین مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ کوہ نور نامی یہ نادر ہیرا قطب شاہی دور میں گولکنڈہ کی کولور کان سے دریافت ہوا تھا۔ کولور آج جنوبی انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کا حصہ ہے۔

دکن کی تاریخ کے مورخ علامہ اعجاز فرخ نے امریکہ کے شہر شکاگو سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ کولور کان سے دریافت ہونے والا کوہ نور ہیرا سب سے پہلے گولکنڈہ کے میر محمد سعید المعروف میر جملہ (دوم) کے ہاتھ آیا، جو عبداللہ قطب شاہ کی طرف سے سلطنت کا وزیر اعظم بنائے جانے سے قبل ہیروں اور جواہرات کے تاجر تھے۔

’وہ دنیا کے اس سب سے قیمتی ہیرے کو چمڑے کے ایک بستے میں رکھتے تھے اور خود سے الگ نہیں کرتے تھے۔ اس کا وزن تقریباً 756 قیراط تھا۔ ایک دن میر جملہ کا بیٹا نشے کی حالت میں بادشاہ کے تخت پر جا بیٹھا جس کی پاداش میں انہیں (میر جملہ) کو اپنے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

’میر جملہ نے اپنی مدد کے لیے مغل حکمراں شاہجہاں سے ملنا مناسب سمجھا، جب وہ شاہجہاں کے دربار میں پہنچے تو انہیں کوہ نور ہیرا بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس طرح یہ ہیرا مغلوں کے پاس پہنچا۔

’شاہجہاں نے جب میر جملہ کی آمد کا مقصد دریافت کیا تو انہوں  نے اپنی روداد بیان کی جس پر شاہجہاں نے انہیں یقین دلایا کہ آپ کو اپنا عہدہ واپس دلایا جائے گا۔ بعد میں اورنگ زیب نے میر جملہ کو بنگال کا صوبے دار مقرر کیا۔‘

علامہ اعجاز فرخ کہتے ہیں کہ کوہ نور ہیرے کی مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا سے نادر شاہ کے ہاتھ لگنے کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

’یہ کہانی یوں ہے کہ جب نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا تو 1739 میں ان کے مخبروں نے انہیں خبر دی کہ محمد شاہ رنگیلا کی پگڑی میں ایک نایاب ہیرا پوشیدہ ہے۔ تب اس ہیرے کا نام کوہ نور نہیں تھا۔

’نادر شاہ نے پگڑی بدلنے کی رسم کے بہانے جب محمد شاہ رنگیلا سے پگڑی حاصل کی تو اس میں چمکتے دمکتے ہیرے کو دیکھ کر اس کا نام کوہ نور یعنی روشنی کا پہاڑ رکھا۔ اس دن سے یہ ہیرا کوہ نور کہلاتا ہے۔ نادر شاہ ہندوستان سے بقیہ مالِ غنیمت کے علاوہ کوہ نور ہیرا بھی اپنے ساتھ لے گئے۔‘

تاریخ کی بعض کتابوں میں کوہ نور کی دریافت کے متعلق لکھا ہے کہ یہ ہیرا 13 ویں صدی میں دکن سے دریافت ہوا تھا جسے پہلے خلجی خاندان کے دوسرے بادشاہ  علاؤ الدین خلجی کے جنرل ملک کافور نے حاصل کیا ۔

برسوں تک خلجی خاندان کی ملکیت میں رہنے کے بعد یہ 16 ویں صدی میں سلطان ابراہیم لودھی کے پاس پہنچا۔ یہ 1526 میں پانی پت کی لڑائی کے بعد پہلے مغل شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے پاس پہنچا اور نادر شاہ کے حملے تک مغلوں کی ملکیت رہا۔

یہ ایک ’منحوس ‘ ہیرا ہے

علامہ اعجاز فرخ کہتے ہیں کہ کوہ نور ہیرا ایک ایسا پتھر ہے کہ جس کے پاس بھی رہا وہ برباد ہوا۔

’یہ ایک منحوس ہیرا ہے۔ چناں چہ جب نادر شاہ اپنے ساتھ لے گئے تو کچھ ہی سالوں بعد ان کا قتل ہو گیا۔ وہاں سے افغانستان کے راجہ احمد شاہ ابدالی کے قبضے میں آیا۔ بعد ازاں یہ ہیرا مختلف معرکوں میں راجاؤں کے ہاتھ لگتا گیا اور بالآخر دوبارہ ہندوستان پہنچا۔

’پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ مختلف تہواروں کے موقعوں پر اسے اپنے بازو پر باندھتے تھے۔ ان کی موت کے بعد انگریز جب سکھوں پر غالب آئے تو گلاب سنگھ نے کوہ نور ہیرا دلیپ سنگھ سے لے کر سر ہنری لارنس کو دیا جسے تین جولائی، 1850 کو لارڈ  ڈلہوزی نے ملکہ وکٹوریہ کی خدمت میں پیش کیا،  تب سے آج تک یہ قیمتی ہیرا برطانیہ کے قبضے میں ہے

واپسی ناممکن

ڈاکٹر سچیتا مہاجن دہلی کی معروف جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے مرکز برائے تاریخی مطالعات میں جدید تاریخ کی پروفیسر ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات چیت کے دوران سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انگریز جو چیز 173 سال پہلے اپنے قبضے میں لے گئے ہیں وہ اسے ٹوئٹر پر چلنے والے ایک ٹرینڈ پر واپس کریں گے۔

’اگر انہیں کوہ نور واپس کرنا ہوتا تو کب کا کر دیتے، لیکن یہ بھی مناسب نہیں  کہ آپ صرف کوہ نور واپس مانگیں۔ واپس مانگنا ہے کہ دیگر انمول چیزیں جیسے نودارات، مخطوطات اور پینٹنگز کا بھی مطالبہ کریں۔

’پھر انگریزوں کے دور میں ہندوستانیوں کا جو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا تھا اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔ معافی نامے کے علاوہ معاوضہ بھی طلب کریں۔ صرف کوہ نور لے کر کیا کریں گے؟‘

پروفیسر فرحت حسن کہتے ہیں کہ کوہ نور کی قیمت یہ نہیں کہ وہ ایک انمول ہیرا ہے بلکہ وہ ہندوستان کی خودمختاری کی ایک علامت تھی۔

’اس کی بہت سارے ہندوستانیوں کے لیے علامتی اہمیت بھی ہے۔ معاشی پہلو سے دیکھیں تو برطانیہ کو اس کی واپسی میں کوئی فائدہ ہے نہ نقصان۔ مذاکرات کی طاقت تو انڈیا کے پاس نہیں  کہ وہ اس کو اس (مذاکرات) کے ذریعے واپس حاصل کریں

Leave a Comment