سالی کے ساتھ ہمبستری کس صورت میں جائز ہے

سوال: سگی سالی سے زنا کرنے سے کیا نکاح پر کوئی فرق پڑیگا؟ کیا حرمت مصاہرت کا کوئی مسئلہ ہے؟ جواب: نہیں. البتہ تین حیض تک اپنی بیوی سے وطی نہ کرے. اور سچے دل سے توبہ و استغفار کرے. فتاوی دینییہ واللہ اعلم کیا سالی سے زنا کی صورت میں نکاح ٹوٹ جائیگا سوال:

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس شخص کے بارے میں جو اپنی سالی سے زنا کرتا ہے تو کیا اسکی بیوی کا نکاح ٹوٹ جائے گا یا نہیں ؟ جواب: اس شخص نے سخت گناہ کا کام کیا ہے لیکن اس عمل سے اسکی بیوی کیساتھ نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، وہ اسکی منکوحہ ہی ہے، تاہم سالی کے استبراء یعنی اسکے ایک حیض گزرنے تک یا اسکے حاملہ ہونے کی صورت میں اسکے وضع حمل تک اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں بلکہ علیحدہ رہنا واجب ہے ۔ ( فتاویٰ عثمانی :1/282 تا 254/ معارف القرآن )

تاہم سالی کے استبراء یعنی اس کے ایک حیض گزرنے تک یا اس کے حاملہ ہونے کی صورت میں اس کے وضع حمل تک اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں ، بلکہ علیحدہ رہنا واجب ہے ، دراصل اس مسئلے میں کہ مذکورہ صورت میں مزنیہ کا استبراء واجب ہے یا مستحب ؟ حضرات فقہائے کرام کے مختلف اقوال ہیں ، جن کی روشنی میں محتاط یہی ہے کہ مزنیہ کا استبراء واجب ہے ، تفصیل کے لئے حضرت والا دامت برکاتہم کا مصدقہ راقم کا درج ذیل فتویٰ ملاحظہ فرمائیں ۔ مذکورہ مسئلے سے متعلق عبارات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے

کہ اس مسئلے میں حضرات متقدمین کے مختلف اقوال ہیں ، چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے دو قول مروی ہیں : ۱:۔ سالی سے زنا کی صورت میں سالی کے تین حیض گذرنے تک بیوی سے علیحدہ رہنا واجب ہے ، یعنی مذکورہ صورت میں زنا سے عد ت، نکاح میں عدت ہی کی طرح ہے ۔ ۲:۔ ایک حیض گزرنا واجب ہے ۔ ۳:۔ فقہائے حنابلہ نے ایک تیسرے قول کو بطور احتمال کے ذکر کیا ہے ، جو ا س کے ضعف کی طرف اشارہ ہے ، وہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں کچھ واجب نہیں، بلکہ بعض فقہائے حنابلہ نے یہ تیسرا قول ذکر ہی نہیں کیا ۔

فی المغنی لابن قدامۃ تحت رقم المسئلۃ :۱۱۳۹،ج:۹،ص:۴۷۹ و ۴۸۰ (طبع عالم الکتب ریاض) وان زنیٰ بامرأۃ فلیس لہ أن یتزوج اختھا حتی تنقضی عدتھا وحکم العدۃ من الزنا والعدۃ من وطء الشبھۃ کحکم العدۃ من النکاح ، فان زنی بأخت امرأتہ فقال احمد یمسک عن وطء امرأتہ حتی تحیض ثلاث حیض و قد ذکر عنہ سی المزنی بھا نھا تستبرأ بحیضۃ لانہ وطء فی غیر نکاح ولا احکامہ النکاح ویحتمل ان لاتحرم بذلک اختھا ولا أربع سواھا لانہا لیست منکوحۃ ومجرد الوطء لا یمنع بدلیل الوطء فی ملک الیمین لا یمنع أربع سوھا۔ تنبیہ

ــ اذا وطیٔ بشبھۃ او زنی لم یجز فی العدۃ ان ینکح اختھا ولو کانت زوجتہ نص علیہ و فیہ احتمال ۔ (المبدع فی شرح المنقع ،ج:۷،ص:۶۶ طبع المکتب الاسلامی ، بیروت)۔(وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ ،ج:۷،ص:۱۶۵ طبع دار الفکر ،دمشق)۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے استبراء مستحب ہونا معلوم ہوتا ہے ، کیو نکہ ان کے ہاں ملک ِیمین میں بھی استبراء مستحب ہے ۔( مغنی المحتاج ،ج:۳،ص:۱۸۰ طبع دار احیاء التراث العربی)۔وکذا فی التھذیب ،ج:۵،ص:۳۶۱،طبع دار الکتب العلمیۃ ، بیروت)۔ امام مالک رحمہ اللہ کا مسلک اس مسئلے میں نہیں مل سکا

، جہاں تک حنفیہ کا تعلق ہے تو ان کے ہاں اس مسئلے میں دو قول ملتے ہیں ، ایک قول شامی میں نقل کیا گیا ہے کہ استبراء مستحب ہے ، یعنی : اذا زنی باخت امرأتہ او بعمتھا أو بنت اخیھا أو اختھا بلا شبھۃ فان الافضل ان لایطاء امراتہ حتی تستبرأ المزنیۃ ۔۔۔۔الخ ۔شامی ج:۶،ص:۳۸۰ باب الاستبراء (طبع سعید)۔ اور یہی قول جامع الرموز للقھستانی، کتاب الکراھیۃ ،جج:۲،ص:۳۱۴ (طبع سعید)میں بھی مذکور ہے ۔(وکذا فی شرح الملتقی ،ص:۲۱۱ علی مجمع الانھار ) مگر ایک دوسرا قول استبراء کے واجب ہونے کا بھی

ہے ، جو درایۃ عن الکامل کی عبارتلو زنی باحدی الاختین لا یقرب الاخریٰ حتی یحیض الاخری حیضۃ ۔۔۔۔الخ، کے علاوہ النتف فی الفتاویٰ ، کتاب النکاح ، ص:۱۸۹ (طبع دار الکتب العلمیۃ بیروت) میں یوں مذکور ہے : الموانع فی النکاح ۔۔۔۔والخامس عشر :ـــ اذا وطأ ذات محرم من امرأتہ ممن لا یحرم علیہ بزنا فانہ لا یطأ امراتہ حتی یستبریٔ الموطوء ۃ بحیضۃ لانہ لا یحل لہ رحمان محرمان فیھما ماؤہ(نیز علامہ عبدالرحمن شیخی زادہ آفندی علامہ آفندی نے ’’مجمع الانھار‘‘ ج:۱،ص:۴۷۹ (طبع دار الکتب العلمیۃ،بیروت) میں صرف درایہ عن الکامل کی عبارت ذکر کی ہے ، اس پر کوئی اشکال وغیرہ ذکر نہیں فرمایا )

::اس سے معلوم ہوا کہ حنفیہ کے ہاں ایک قول استبراء کے واجب ہونے کا بھی ہے ، لہٰذا حنابلہ کے ہاں مطلقاً استبراء کے واجب ہونے اور حنفیہ کے ایک قول کے مطابق استبراء واجب ہونے کی بناء پر محتاط بات وہی معلوم ہوتی ہے ، جو حضرت مفتی اعظم پاکستان رحمہ اللہ ونوراللہ مرقدہ نے امداد المفتین،ص:۵۵۳

 

Leave a Comment